پہلے پہل پیار کا دھوکہ

Poet: Shari By: Shabir, karachi

دھن دولت تو ہاتھ کی میل تھی لیکن
وفا بھی دھول ہے یہ جانتے نہ تھے

زخموں سے جسم چھلنی ہے تو حیرت کیسی
دوستی کے لبادے میں دشمنوں کو پہچانے نہ تھے

پہلے پہل پیار کا دھوکہ یاد ہے شیری
محبت میں کسی بھی بات کو آزماتے نہ تھے

چپ چاپ جل جاتے تھے شمع محفل کی مانند
دکھ قیامت کا تھا مگر اشک آنکھوں میں آتے نہ تھے

ریزہ ریزہ بکھر رہے تھے خوشبو کی مانند
خود سر انا کی خاطر پھول میں آتے نہ تھے

وفا کے بدلے وفا کی شرط کچھ غلط تو نہ تھی
شکوہ تھا بجا، لب ہرگز ہلاتے نہ تھے

خاک ہوچکا شہر وفا کا ہر مکاں
امید چراغ کو پھر بھی بھجاتے نہ تھے

Rate it:
Views: 527
23 Apr, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL