پہلے پہل پیار کا دھوکہ
Poet: Shari By: Shabir, karachiدھن دولت تو ہاتھ کی میل تھی لیکن
وفا بھی دھول ہے یہ جانتے نہ تھے
زخموں سے جسم چھلنی ہے تو حیرت کیسی
دوستی کے لبادے میں دشمنوں کو پہچانے نہ تھے
پہلے پہل پیار کا دھوکہ یاد ہے شیری
محبت میں کسی بھی بات کو آزماتے نہ تھے
چپ چاپ جل جاتے تھے شمع محفل کی مانند
دکھ قیامت کا تھا مگر اشک آنکھوں میں آتے نہ تھے
ریزہ ریزہ بکھر رہے تھے خوشبو کی مانند
خود سر انا کی خاطر پھول میں آتے نہ تھے
وفا کے بدلے وفا کی شرط کچھ غلط تو نہ تھی
شکوہ تھا بجا، لب ہرگز ہلاتے نہ تھے
خاک ہوچکا شہر وفا کا ہر مکاں
امید چراغ کو پھر بھی بھجاتے نہ تھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






