پی سی او ۔۔۔۔
Poet: طارق اقبال حاوی, لاہور By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreپی سی او میں ہوئی ان سے، برسوں بعد ملاقات
سوچا کس طرح بچھڑوں کو، ملاتے ہیں لمحات
کچھ دیر تو لگی اس کو، باغور دیکھنے میں
پھر رکھ سکے نہ قابو، ہم دونوں ہی جذبات
کچھ دیر تو لگی پرانے، گِلوں میں، شکوﺅں میں
ہوئی گلے سے لگ کے، پھر اکھیوں کی برسات
کچھ دیر تو لگی ہم کو، معافی و معذرت میں
کہ ہو جاتی ہیں خطائیں، نادانی میں بعض اوقات
کچھ دیر تو لگی پھر سے، محبت کے بندھنے میں
جو نئی تھی اُمنگیں، تھیں پیار کی سوغات
کچھ دیر تو لگی اس کو، لانے میں یار حاوی
پی سی او میں جو لائی تھی ، اُسے خوش قسمتی سے رات
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






