پی کر تمام رات بھی ہوش میں رہا
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiجب تک پس غبار راہ سے آتی رہی جھلک
ہم شوق دید یار میں ایسے تھے منہمک
چرچا تمام رات ترا کس طرح ہوا
وہ ذکر تھا کہ خواب تھا بالیں گئی مہک
پی کر تمام رات بھی جو ہوش میں رہا
اک درد جب ملا تو جنوں خود گیا بہک
ائے دوست ہم نے ترے آنے کی آس میں
آنکھیں کھلی رکھی ہیں دم واپسی تلک
ہے اندمال زخم کی حاجت تمام عمر
پچھلی جراحتوں سے ملی لذت کسک
جب بھی چراغ سے چراغ جلا روشنی ملی
سورج سے چاند تاروں کو کیسی ملی چمک
باد نسیم لے کے جب آئی بہار نو
پژ مردگئی شوق کے دل سے مٹی کسک
سب کچھ ہے آپ کا تو بلا جہد دیجئے
کسب معاش جبر مشیت کی ہے جھلک
ہر کسی کو دوست کا رتبہ نہ دے سکا برکات
یہ اور بات ہے کہ کسی کی نہ کی ہتک
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






