پیار
Poet: Gurya By: Gurya, karachiشاید میں تم سے پیار کرنے لگی ہوں
پہلے میں چین سے سوتی تھی
اب تو رات بھر جاگنے لگی ہوں
پہلے بھی میں چپ چپ رہا کرتی تھی
اب اور چپ رہنے لگی ہوں
شاعری کا شوق تھا پہلے بھی
اب تو ہر شعر میں تمہیں لکھنے لگی ہوں
زندگی کا سفر اکیلے کرتے کرتے اب تو
تمہارے سنگ چلنے کی خواہش ہونے لگی ہے
پہلے تم اجنبی لگتے تھے
اب تمہیں اپنا ماننے لگی ہوں
تم سے ملاقات کرنے کے بعد
تمہارے ہی بارے میں سوچنے لگی ہوں
اے کاش تم ہمیشہ کے لیے میرے ہو جاؤ
اب تو گڑیا رب سے یہی دعا میں کرنے لگی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






