پیار بھری نگاھ
Poet: Asad By: Asad, mpkہمیں الگ خود سے آپ جدا نہ کیجیئے
ھے خدا کا واسطہ آپ ایسا نہ کیجیئے
ھم بے ٹھکانوں کا کہیں کوئی ٹھکانہ نہیں
ہمیں نکال اپنے در سے بے سہارا نہ کیجیئے
بھلے کی کوئی امید ہمیں یار تم سے ھے
مرضی تمہاری ھے اب خواہ اچھا نہ کیجیئے
ھے حسن کا چرچہ تیرے سر عام محفل میں
دکھاوے کی مسکان سہی اپنے روکا نہ کیجیئے
برا ھے یار اسد برا زمانے میں۔
پیار بھری نگاہ سے اسکی طرف دیکھا نہ کیجیئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






