پیار سے مسکراتے ہیں
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mipuri, Birminghamہماری جانب دیکھ کر وہ ہچکچاتےہیں
کبھی کبھی پیار سے مسکراتے ہیں
راستے میں جب مجھ سے ٹکراتے ہیں
بڑے پیار سے پھر وہ شرماتے ہیں
مجھے وہ نئی نئی کہانیاں سناتے ہیں
اپنی باتوں سےمجھے بہت ہنساتے ہیں
وہ ہمارے دل میں جگہ بناتے جاتے ہیں
اور ہم انہی کے گن گاتے جاتے ہیں
ہم ان کے جتنا پاس آتا چاہتے ہیں
وہ ہم سے اتنا دور چلے جاتے ہیں
ہم ان سےاتنا پوچھنا چاہتے ہیں
کہ وہ ہمیں کیوں اتنا ستاتے ہیں
ہم جب بھی ان کے سامنے آتے ہیں
وہ دوپٹے سے اپنا چہرہ چھپاتے ہیں
ہم ان سے یہ بات پوچھنا چاہتے ہیں
کہ وہ اصغر پہ کیوں ستم ڈھاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






