پیار میرا نہیں ہے عام سنو
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanیاد کرتی ہوں اس کا نام سنو
اور مجھکو نہیں ہے کام سنو
آج تک مجھکو بھول پائی نہیں
وہ ملن کی حسین شام سنو
خواہش نفس سے ہے دور بہت
پیار میرا نہیں ہے عام سنو
اس کی خاطر میں شعر کہتی ہوں
اس کی خاطر ہے یہ کلام سنو
مجھکو عزت سے تم نے دیکھا ہے
جھک کے کرتی ہوں میں سلام سنو
چاہتی ہوں تمہارے دل میں کروں
عمر بھر کے لئے قیام سنو
آج سارہ کا دل بہل جائے
آج بھیجو کوئی پیام سنو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






