پیار کی بارش
Poet: Rizwan Ahmed By: Rizwan Ahmed, Karachiتیرے پیار کی بارش میں نہانے کو جی چاہتا ہے
تیری بانہوں کی گرمی میں پگھل جانے کو دل چاہتا ہے
تیرے عشق کے گہرے ساگر میں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
محبت میں تیری حد سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
تیری جھیل سی کالی آنکھوں میں سما جانے کو جی چاہتا ہے
چاند سے تیرے چہرے پہ فدا ہو جانے کو جی چاہتا ہے
تیری شہد سی باتیں میرے دل کو بہت لبھاتی ہیں
بھیگی سی مسکان تیری دیوانہ مجھے کر جاتی ہے
غصہ بھی تیرا ہے پیار بھرا ساری دنیا سے جدا
انوکھی تیری اداؤں پہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
مانگا ہے تجھے خدا سے بڑے سجدوں کے بعد
کم ظرف زمانے کی نظروں سے تجھے چھپا لینے کو جی چاہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







