پیار کی بازی
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAمیں نے کیا پیار اور بھر لیا دل میں غبار بھی
اقرار کرتا وہ کیسے، کر نہ سکا میں اظہار بھی
آنکھوں کے رستے اسے دل میں بسانے چلا تھا
کر نہ سکا کبھی، میں اس سے آنکھیں چار بھی
میری محبت کا بھرم وہ رکھتا کیسے اور کیونکر
کبھی چھیڑ نہ سکا میں اس کے دل کے تار بھی
کتابوں سے تو کبھی فلموں سے ڈائیلاگ یاد کئے
محبت کے نرالے اصول دے گئے مجھے مار بھی
جاوید میری سمجھ میں تو فقط اتنی ہی بات آئی
پیار کی بازی جب کھیلو گے، جیت ہوگی تو کبھی ہار بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







