پیار کی کہانی
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryشہزادی دیکھ
شہزادے کے جسم میں ہیں پیوست انگنت سوئیاں
ان کو چنتے ،چنتے ہوجائنگی انگلیاں تیری فگار
بالوں میں آئنگے اتر چاندی کے تار
چاند چہرے پر چها ئے گی سلوٹوں کی چادر
روشن آنکھوں کے دیوں کی مدہم پڑه جائیگی لو
گر جو لگ گئی آخر میں تیری آنکھ
تو لے جائیگی ظالم جادوگرنی تیرا پیار
شہزادی مدہم سے مسکرائی اور کہنے لگی
اے طبیب! جو بچ جائے کسی بھی صورت
میرا دلدار
تو منظور ہے مجھے ہر اک ہار
یہ رنگ روپ ،یہ جوانی ،یہ عمر کے سال
سب ہیں میرے شہزادے پر قربان
اور جو لے گئی اس کو ظالم جادوگرنی اپنے ساتھ
تب بھی مجھے ہے منظور اپنی ہار
اگر رہے میرا شہزادہ سلامت ،شاد آباد
تو سودا نہیں یہ بیکار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






