پیار ہوجائے کسی سے
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliہو جائے اگر کسی سے پیار
جلدی کرنا پھر اس کا اظہار
اُس کے دل میں اُتر جانا تم
جب بھی ہوں اُس سے آنکھیں چار
چاہو جسے تم دل سے چاہو
اُسے ہی بناو پھر اپنا دل دار
روٹھے جب بھی تم سے وہ
تم ہی منانا اُسے ہر بار
وفا کا بدلہ وفا ہے ملتا
اُسی سے رہنا تم وفا دار
جب بھی خطا ہو جائے تو
کرنا خود ہی اس کا اقرار
جاں بھی مانگے تو ہنس کے دے دو
کرنا نہ تم کبھی اُس کو انکار
پیار و محبت۔ امن و سکوں سے گزار دو
زندگی کے جو ہیں دن دو چار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






