پیاس لگتی ہے تو پانی بھی چُھپا دیتا ہے

Poet: مرید بــــــــــــــاقرؔ انصاری By: مرید بــــــــــــــاقرؔ انصاری, میانوالی

پیاس لگتی ہے تو پانی بھی چُھپا دیتا ہے
کیسا حاتِم ہے سَوالی کو دَغا دیتا ہے

وہ بھلا کِس کو سکھاۓ گا وَفاؤں کے ہُنر
جس کا معمول ہے ہر اِک کو جَفا دیتا ہے

کتنا سنگدِل ہے محبت میں وہی شخص کہ جو
بِچھڑے محبوب کو پل بھر میں بُھلا دیتا ہے

کیسے میں یار کے احسان بُھلا سکتا ہوں
جب بھی مِلتا ہے کوئ زخم نیا دیتا ہے

ایسا سنگدِل ہے کہ پڑ جاۓ ضرورت جو کبھی
میرے ہوتے ہوۓ غیروں کو صَدا دیتا ہے

یہ بھی سچ ہے کہ زمانے کا وہ سنگدِل ہے مگر
سامنے آۓ تو غَم سارے بُھلا دیتا ہے

اے طبیب اتنا نہ کر اپنی دواؤں پہ ناز
وہ مرا رَب ہے جو ہر اِک کو شَفا دیتا ہے

دَرحقیقت وہی انسان حُسینی ہے کہ جو
نوکِ نیزہ پہ بھی قاتِل کو دُعا دیتا ہے

اُس سے بڑھ کر کوئ رازِق نہیں ہو گا باقرؔ
وہ جو پتھر میں بھی کیڑوں کو غِذا دیتا ہے

Rate it:
Views: 424
09 Oct, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL