پیاسی رہی میں، مے کا وہ ساغر نہیں ملا

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachi

دریا گزر گئے ہیں، سمندر نہیں ملا
پیاسی رہی میں، مے کا وہ ساغر نہیں ملا

اُس جیسا دوسرا نہ سمایا نگاہ میں
کتنے حسیں ملے، وہی پیکر نہیں ملا

کچھ تیر میرے سینے میں پیوست ہی رہے
تیروں کے درمیاں میں وہ خنجر نہیں ملا

آنسو بیان کرنے سے قاصر رہے جنہیں
وہ زخم دینے والا ستمگر نہیں ملا

اک چوٹ دل پہ لگتی رہی ہے تمام شب
دل کی زمیں پہ آج وہ دلبر نہیں ملا

وہ ضبط تھا کہ آہ نہ نکلی زبان سے
وہ سامنے تھا، پھر بھی وہ آکر نہیں ملا

وشمہ جی اُس کے پیار میں لذّت عجیب تھی
لیکن اُسی سے میرا مقدّر نہیں ملا

Rate it:
Views: 296
09 Aug, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL