پیام نیب
Poet: Hassan Kayani Leeds (UK) By: Hassan Kayani, Leedsمیرے نیب نے مجھکو سلام و پیام بھیجا ھے
سوالات اور دھمکیوں کے ساتھ بلا بھیجا ھے
ثبوتوں میں اس نے اخباروں کے تراشے بھیجے
اور میری گرفتاری کے لیے بھی کہلا بھیجا ھے
کہا وہ جو تم جوش سے للکارتے رھے
اس جنون کو بے کاٹ کر دیا ھم نے
جومیڈیا سے بلند پکار سر عام آتی تھی
اس آواز کو کب سے سلا دیا ھم نے
تمارے سبھی حلقہءیاراں نرغے میں ھیں
دوسروں کو وعدہ معاف گواہ بنا دیا ھم نے
تمام عسکری بھی میرے ساتھ ساتھ ہیں
تمام عدلیہ بھی بر سر راہ میں ھیں
حکومت کے منصب بالا کے تمام مکین
ھوس و لالچ کے شکنجہ گاہ میں ھیں
اس نے کہا ھوش کرو مقتل کو نہ سجتا دیکھو
در ذنداں سے سکوت شب کو نہ ڈھلتا دیکھو
اگر اپنی اور اھل خانہ کی خیر چاہتے ھو
ذنداں سے رھائی کی کوئی سبیل چاھتے ھو
تو واپسی کا کوئی امکاں دل میں نہ پلتا دیکھو
مگر شرط یہ ھے کہ دس سال تک
سکون سے بیرون مللک ھوا ھو جاؤ
وگرنہ جیلداروں کے ھاتھوں سے
جام زہر پی کر زیر زمین فنا ھو جاؤ
یہ نامہ بر دیکھا تو اسکو ایلچی سے پیام بھیجا
تمہیں خبر نہیں کہ نظریات زندہ رھتے ھیں
کہ جس شان سے کوئی سوئے دار چڑھتا ھے
اوراق تاریخ میں وہ نقش پا امر ھوتے ھیں
میرا سرمایہءحیات میرے اصول ھیں لوگو
میرا مقصد حیات خدمت عوام میں ھے
اسی لیے تو قید و بند کا خوف نہیں ھے مجھے
میرا اعتقاد میرا ایمان اسلا م میں ھے
منصب دار سے دیکھوں یہ یقین ھے مجھے
تاریخ میں تجھے رسوا ھم بھی دیکھیں گے
چرخ نیلی فام نے کتنوں کو رلایا ھے حسن
ان فرعونوں کو جھکتا ھم بھی دیکھیں گے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






