پیش گوئی

Poet: hamid raza khan By: hamid raza khan 2, karachi

ہو گئیں ختم الجھنیں ساری پھر بھی باقی ہے کیوں پریشانی
عقل کی بات سن کر بھی تھوڑے لوگوں نے کیوں نہیں مانی

اہم ہے وہ بھی اک وزارت میں تک رہی ہے جو راہ کو تیری
یہ سن لو حامد کی پیش گوئی ہے سن لیں آکر حسین حقانی

Rate it:
Views: 542
18 Dec, 2011
More Political Poetry