چار دن کی زندگی ہے، اس میں روٹھنا منانا کیا
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Rawalpindiچار دن کی زندگی ہے، اس میں روٹھنا منانا کیا
دور ہوں جو پہلے ہی، انکے گلے سے لگنا لگانا کیا
قربتوں کے اس حسیں دور میں الزام جو لگے تو
پھر ایسے میں اک دوسرے کو دیکھنا دکھانا کیا
یہ جو لکھ رہے ہو نام میرا تم ساحل سمندر پہ
لہروں کا تو کام ہے مٹانا، اس میں ڈرنا ڈرانا کیا
جب لکھا ہو قسمت میں عمر بھر ماتم ہی ماتم
تو پھر رتوں کا بدلنا، بہاروں کا ہنسنا ہنسانا کیا
باغ ہی جب اجڑ گیا ہو ہرا بھرا اک باغباں کا
اس چمن میں حسیں پھول کا کھلنا کھلانا کیا
بہاروں میں بھی نہ آئے جن درختوں پہ بہار
تو پھر ایسے اشجار کے نیچے بیٹھنا بٹھانا کیا
دب گیا ہے سر جو تیرے احساں کے بوجھ تلے
تو پھر اس کا عزت سے اٹھنا کیا، گرنا گرانا کیا
کانوں کے کچے ہوں جس شہر کے سبھی باسی
تو پھر افواہوں کا اس بستی میں اڑنا اڑانا کیا
گر خدا ہی نہ چاہے کرنا ممکن وصل ہمارا
تو پھر رشتوں کا تیرے میرے جڑنا جڑانا کیا
دلوں میں بسی ہوں اگر نفرتیں اور کدوتیں
تو پھر ایسے میں ہاتھوں کا ہمارے ملنا ملانا کیا
عمراؔن کو مانتے ہو قاتل تم اپنی ہر خوشی کا
تو پھر میت پہ اسکی آنسوئوں کا بہنا بہانا کیا
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






