چاند
Poet: UA By: UA, Lahoreبے نور لگتا ہے مجھے تیرے بنا یہ چاند
جو تو نہیں تو چاندنی کیا اور کیا ہے چاند
کرنوں کی انجمن میں جلوہ فگن ہوا
کچھ اور تاب ناک ہوا آج رات چاند
پر میرا جی بہلا نہیں سکتا یہ آج رات
تیرے جیسا ہے مگر تو نہیں یہ چاند
تیرے مداح اور تیری بزم یاد آگئی
تاروں کی انجمن میں جو آج دیکھا چاند
تو نے کہا تھا آئے گا تو چاند رات کو
جب آسماں پہ جلوہ نما ہوگا پورا چاند
تیرے وعدے پہ اعتبار آج پھر کیا میں نے
اب تک تو نہیں آیا کہ جلوہ نما ہے چاند
دیکھ عظمٰی اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا
وہ جلوہ نما ہے یہاں اور آسماں پہ چاند
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






