چاند اور میں۔۔۔
Poet: Ahber Chishti By: Ghulam Muhy ud din, Lahoreمیں چاند کے سامنے بیٹھا ہوں
حسرت سے اُسے میں دیکھتا ہوں
حیرت میں مُجھے وہ گھُورتا ہے
اُلجھن میں اچانک پُوچھتا ہے
عہبر اے میرے ہم خالق
اے جانِ جگر ناداں شاعر
تُو دِل کا شکستہ کیونکر ہے؟
کیوں روگ لگائے بیٹھا ہے؟
دُنیا سے کیوں تُو ہارا ہے؟
میں مست تخیل کہتا ہوں
اے چاند اے میرے ہم خالق
اے روشن ہالہ قدرت
میں دِل کا شکستہ
کِس نے کہ؟
میں ہارا ہوں؟
میں کَس سے لڑ؟
میں روگی ہوں؟
کیوں کَس سے سُنا۔۔۔؟
کِسی دوست نے غلط بتایا ہے۔۔۔
احباب سے میری جنگ نہیں!
مخلوقِ خُدا سے بیر نہیں
میں رب کو سجدہ کرتا ہوں
میں اِن سے محبت رکھتا ہوں
میں بے بس ہوں۔۔۔!
بے حِس تو نہیں۔۔۔۔!
میں لاکھ خطائیں کرتا ہوں!
سو لاکھ سزائیں پاتا ہوں۔۔۔!
میں کیسے لڑوں گا اپنوں سے
مُجھے اِن سے یوں مایوس نا کر
بس دان کئے ہیں کُچھ سپنے!!
اے چاند میں اِن سے ہارا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






