چاند جس کو سمجھتا رہا
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer, Karachiچاند تو چھپ جاتا ہے دن کے اجالوں میں
میرا چاند کہا گم ہوجاتا ہے چاندنی راتوں میں
زیست کی روشن راہ میں جو ساتھ نہ دے پائے
روشنی کیا دیگا وہ تاریک ساعتوں میں
پیار کو جو سمجھ نہ پائے زخم کھا کر بھی
کیا سمجھ پائے گا مجھ کو اپنی خوشحالی میں
ایفائے عہد تکمیل جو کر نہ پائے
کیسے بن پائے گا ساتھی زندگی میں
چاند جس کو سمجھتا رہا ہر دم جس کو انو
چھپنے والی شے تھی زمیں و آسمانوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






