چاند سا چہرہ
Poet: Wajid Iqbal By: Wajid Iqbal, karachiتیرے چہرے کی کیا بات کروں
تیرا چہرہ چاند سا چہرہ ہے
کیوں ایسا مجھے اب لگنے لگا
کوئی اور نہیں تو میرا ہے
تیری آنکھوں کا کیا نعم البدل
تیرا روپ کھلا سویرا ہے
تو جب جب مجھ سے بات کرے
جانے کیوں مجھ کو ایسا لگے
میلوں تک جیسے پھول کھلے
خوشبو جو پھیلاتی ہے یہ ہوا
دراصل آنچل تیرا ہے
معصوم صنم معصوم ادا
کچھ حال کرو معلوم میرا
تیرے پیار میں کھو کے جان وفا
دیکھو نا حال کیا میرا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








