چاند ستاروں والی روشن راتیں کاجل ہو جاتی ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanچاند ستاروں والی روشن راتیں کاجل ہو جاتی ہیں
یاد تری آ جاتی تو آنکھیں بادل ہو جاتی ہیں
مرے وطن پردیس میں مجھ کو ڈستے ہیں جب ہجرناگ
تیری پیاری پیاری یادیں ماں کا آنچل بن جاتی ہیں
جسے اپنے دل کے اندر اپنے رب کو ڈھونڈ لیا
اس کے لب سے نکلی باتیں خوشبو صندل ہو جاتی ہیں
جینا مشکل مرنا مشکل دل قابو میں رکھنا مشکل
دیکھ کے تیرا حسن سراپا سانسیں پاگل ہو جاتی ہیں
انکی طرف سے رہ رہ کر جب طنز کے نشتر چلتے ہیں
دل تو گھائل ہوتے ہی ہیں روحیں گھائل ہو جاتی ہیں
جس کا عزم کا جواں ہوتا ہے جو دنیا سے نہیں ڈرتا
اس کے پاؤں کی زنجیریں بھی وشمہ پائل ہو جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






