چاند نکلا اور فلک
Poet: Dr.Waqar Zaidi By: Dr.Waqar Zaidi, Karachiچاند نکلا اور فلک پر ضو فشاں ہونے لگا
درد یادوں کا بڑھا اور بے کراں ہونے لگا
صحن گلشن سے صبا چپکے سے گزری تھی کبھی
اور مجھے تیرے ہی آنے کا گماں ہونے لگا
ہو گئے برہم وہ مجھ سے زلف برہم کی طرح
ہر نفس میرے لیے بار گراں ہونے لگا
شدت غم کا مری کچھ تجھ کو اندازہ نہیں
دل سے نکلا اشک آنکھوں سے عیاں ہونے لگا
دیکھ تیرے غم نے کیا کیا شکل کی ہے اختیار
آنکھ شعلہ سوچ پتھر دل دھواں ہونے لگا
آدمی نے کر دیا ہے تنگ حلقہ زیست کا
ذرہ ناچیز بڑھ کر آسماں ہونے لگا
رنگ ان کے چہرے پہ آتے رہے جاتے رہے
آخر آخر ان کو احساس زیاں ہونے لگا
اے وقار غم یہ تیری خوش نصیبی ہے کہ اب
اپنے غم کا ان کی محفل میں بیاں ہونے لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






