چاند چہرہ وہ ، جھیل سی آنکھیں
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaچاند چہرہ وہ ، جھیل سی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں
اُن میں کیسی وہ دلرُبائی تھی
کھینچ کر مجھ کو پاس لائی تھی
پھر مجھے یاد کچھ نہیں یارو
پار آنکھوں سے جب ہوئی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں
پھر سراپا بھی وہ قیامت کا
کیا کرے شیخ اس شرافت کا
پر بھٹکتی مری نگاہوں کو
آنکھوں آنکھوں سنوارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں
خواب میں آ کے چھیڑ دیں گی مجھے
اب وہ پاگل کیا کریں گی مجھے
بچ کے جانا بھی کون چاہے گا
شوخ ، چنچل، شرارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں
کھاؤں ٹھوکر تو چونک جاتی ہیں
دیکھ کر ٹھیک چین پاتی ہیں
پیار میں ڈوب کر کہیں اظہر
میری نظریں اُتارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






