چاند ڈھلا ،شام ہوئی ،چاند ستارے نکلے
Poet: شاعر پیر نصیر الدین نصیر) By: muhammad zubair, Chichawatniچاند ڈھلا ،شام ہوئی ،چاند ستارے نکلے
تم نے کیا وعدہ تو ،گھر سے نہ پیارے نکلے
دوست جتنے تھے وہ دشمن مرے سارے نکلے
دم بھرا میرا طرفدار تمہارے نکلے
اور پھر اور ہیں اوروں کا گلہ کیا کرنا
ہم نے پرکھا جو تمہیں تم ہمارے نہ نکلے
غم وآلام کے ماروں کا بہت تھا چرچا
وہ بھی کم بخت تیرے عشق کے مارے نکلے
واۓ قسمت کہ راس نہ آئیی محبت ہم کو
ہاۓ تقدیر کہ وہ بھی نہ ہمارے نکلے
جیتے جی ہم نہ ہلے اپنے ٹھکانے سے " نصیر"
ان کے کوچے سے جنازے ہی ہمارے نکلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






