چاند یوں کچھ دیر کو آتے ہو چلے جاتے ہو
Poet: ایمان شہزاد By: ایمان شہزاد, Karachiچاند یوں کچھ دیر کو آتے ہو چلے جاتے ہو
میری نظروں سے چھپ کر بادلوں میں شرماتے ہو
مجھ کو گرویدہ اپنے حسن کا بنا کر
پھر پیار سے دوری کا حکم فرماتے ہو
چاند کیسے آفتاب کی جگہ لے کر تم
کس ادا سے جلوۂ نور اپنے سر منواتے ہو
ہر دن مجھ سے محوِ گو ہو کے
تم کس طرح مناظرِ خواب دکھاتے ہو
چاند ہم روز تمہاری قربت کو ترس جاتے ہیں
اور تم ہو کہ ستاروں میں محفل سجاتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






