چاندنی رات ہو
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreچاندنی رات ہو تیری بانہوں کا لحاف ہو
میں دیکھو تجھے اور تیری مجھ پر نگاہ ہو
خاموش نگاہیں بیان کریں سب
جو بھی تیرے میرے دل میں بات ہو
کر دے تو بھی سب عیاں مجھ پر
میں بھی تجھ پر سب ظاہر کر دوں
نہ ہو کوئ پردہ بیچ میں
نہ ہی کوئ راز ہو
تیری بانہوں میں آکر میں سب بھول جاؤں
تجھے بھی میرے سوا نہ کچھ یاد ہو
ایسا ممکن ہے کیا
دنیا سے الگ ایک جہان ہو
جہاں بس میں اور تو آباد ہو
نہ کوئ فکر نہ کوئی خیال ہو
بس میں تیرے پاس ہوں اور تو میرے پاس ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






