چاہ کر بھی اُٹھ نہیں پاتا

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

چاہ کر بھی اُٹھ نہیں پاتا
اندر اتنا گِر گیا ہوں میں

خاک اڑا اے آستاں والے
تیرے در سے پِھر گیا ہوں میں

اپنا تیشہ مار کر خود کو
سر سے پاء تک چِر گیا ہوں میں

جاں نثاروں اب بچاؤ مجھے
بیچ اپنے گِھر گیا ہوں میں

Rate it:
Views: 400
09 Aug, 2013
More Sad Poetry