چاہا ہے جسکو میں نے ہر پل اپنی زندگی کی طرح

Poet: Kashif Raza Kashi By: Kashif Raza Kashi, Lahore
Chaha Hai Jisko Mein Ne Har Pal Apni Zindagi Ki Tarhan

چاہا ہے جسکو میں نے٬ ہر پل اپنی زندگی کی طرح
توڑ ڈالے ہیں اس نے میرے خواب شیشے کی طرح

کرچیاں گن رہا ہوں زخمی ہاتھوں سے اپنے دل کی
کہ بکھر چکے ہیں اس کے ٹکڑے٬ زرد پتوں کی طرح

رو دیتا ہے جب میرا دل اس کو یاد کر کے تنہائی میں
برستیں ہیں میری آنکھیں ساون میں رم جھم کی طرح

چلا کر اپنی باتوں کا جادو٬ بس لوٹ لیا اس نے مجھکو
بہت دیر میں کھویا رہا اس کے سحر میں گمشدہ کی طرح

توڑ کر وہ اپنا ہر عہد و پیما اب ہوگیا ہے جدا مجھ سے
آتا ہے وہ میرے خوابوں میں٬ اک اجنبی کی طرح

بھٹک گئی ہے میری محبت٬ رات کے اندھیروں میں
کون ہے جو بنے گا میرا ہمسفر کسی رہنما کی طرح

اک بوجھ لیے پھر رہا ہوں٬ کس سے کہوں میں دوستو
پوچھتا پھر رہا ہوں اپنا ہی پتہ اک دیوانے کی طرح

ہولے سے ہوا دیتی ہے دستک میرے دروازے پر
چونک جاتا ہوں میں برسوں سے کسی منتظر کی طرح
 

Rate it:
Views: 1458
10 Nov, 2007
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL