چاہا ہے جسکو میں نے ہر پل اپنی زندگی کی طرح
Poet: Kashif Raza Kashi By: Kashif Raza Kashi, Lahore
چاہا ہے جسکو میں نے٬ ہر پل اپنی زندگی کی طرح
توڑ ڈالے ہیں اس نے میرے خواب شیشے کی طرح
کرچیاں گن رہا ہوں زخمی ہاتھوں سے اپنے دل کی
کہ بکھر چکے ہیں اس کے ٹکڑے٬ زرد پتوں کی طرح
رو دیتا ہے جب میرا دل اس کو یاد کر کے تنہائی میں
برستیں ہیں میری آنکھیں ساون میں رم جھم کی طرح
چلا کر اپنی باتوں کا جادو٬ بس لوٹ لیا اس نے مجھکو
بہت دیر میں کھویا رہا اس کے سحر میں گمشدہ کی طرح
توڑ کر وہ اپنا ہر عہد و پیما اب ہوگیا ہے جدا مجھ سے
آتا ہے وہ میرے خوابوں میں٬ اک اجنبی کی طرح
بھٹک گئی ہے میری محبت٬ رات کے اندھیروں میں
کون ہے جو بنے گا میرا ہمسفر کسی رہنما کی طرح
اک بوجھ لیے پھر رہا ہوں٬ کس سے کہوں میں دوستو
پوچھتا پھر رہا ہوں اپنا ہی پتہ اک دیوانے کی طرح
ہولے سے ہوا دیتی ہے دستک میرے دروازے پر
چونک جاتا ہوں میں برسوں سے کسی منتظر کی طرح
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






