چاہت
Poet: kanwal naveed By: kanwalnaveed, Karachiنہ میں تیرے جیسی ھوں نہ تو میرے جیسا ہے
میں جانو میں کیسی ہوں تو جانے تو کیسا ہے
محبت اس کو بھی ہے ہم سے محبت ہم بھی کرتے ہیں
انکار اس کو بھی ہے چاہت کا انکار ہم بھی کرتے ہیں
سمندر کڑوا کڑوا سا ندی بھی ہے پیاسی پیاسی سی
کچھ نہ کچھ ادھورا ہے دونوں میں ہے اداسی سی
اپنا اپنا ہاتھ لیے ہم سنگ سنگ ہیں چل رہے
نہ لوٹیں گئے قیمتی ،گزر جو ہیں پل رہئے
تم ہماری طرف جو آتے ہو ہم تمہاری طرف چلے جاتے ہیں
ستم ظریفی ہے کنول قسمت کی، نہ تم پاتے ہو نہ ہم پاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






