چاہت کی اذیت رہائی نہ دے گی

Poet: انعم نقوی By: انعم نقوی, Punjab

چاہت کی اذیت رہائی نہ دے گی
کہ بچنےکی راہ بھی دکھائی نہ دےگی

ہنسو آج محفل میں اتنا مرے دل
صدا سسکی کی پھر سنائی نہ دے گی

کسی کو وفا کے نہ قصے سناؤ
زمانے کی عادت بھلائی نہ دے گی

کسی کے بھی کردار کی نہ قسم دو
تمہیں کچھ اجر یہ گوائی نہ دے گی

خموشی کی تلقین منصف نے کی ہے
زباں اب کسی کو دہائی نہ دے گی

جوچاہو وہ پا لو گے سجدوں میں جاکر
تمہیں فیض رب کی خدائی نہ دے گی

اگر غم ملے ہوں جو اپنوں سے بس پھر
تو سبیلِ مرہم سجھائی نہ دے گی

اٹھو کر کے ہمت جیو سر اٹھا کے
بقا آگہی کی تباہی نہ دے گی

ذرا ڈوب کر آنکھوں میں غم کو پرکھو
نظر غم کی ورنہ گہرائی نہ دے گی

چلو پھر سے انعم لکھیں اک حقیقت
کہ چاہت کسی کو رسائی نہ دے گی

Rate it:
Views: 1194
17 Apr, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL