چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے

Poet: ماہر القادری By: نعمان علی, Quetta

چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے
آگ پانی میں لگا کر چل دیئے

ساری محفل لڑکھڑاتی رہ گئی
مست آنکھوں سے پلا کر چل دیئے

گرد منزل آج تک ہے بے قرار
اک قیامت ہی اٹھا کر چل دیئے

میری امیدوں کی دنیا ہل گئی
ناز سے دامن بچا کر چل دیئے

مختلف انداز سے دیکھا کئے
سب کی نظریں آزما کر چل دیئے

گلستاں میں آپ آئے بھی تو کیا
چند کلیوں کو ہنسا کر چل دیئے

وجد میں آ کر ہوائیں رہ گئیں
زیر لب کچھ گنگنا کر چل دیئے

وہ فضا وہ چودھویں کی چاندنی
حسن کی شبنم گرا کر چل دیئے

وہ تبسم وہ ادائیں وہ نگاہ
سب کو دیوانہ بنا کر چل دیئے

کچھ خبر ان کی بھی ہے ماہرؔ تمہیں
آپ تو غزلیں سنا کر چل دیئے

Rate it:
Views: 1288
18 Apr, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL