چاہتاھے دل ایسی کوئی غزل لکھ لوں
Poet: ayesh By: ayesh, Peshawarچاہتاھے دل ایسی کوئی غزل لکھ لوں
جسکے ہر لفظ میں اک آگ چھپالرلکھ لوں
ہرعروج کازوال ہرابتدا کی انتہالکھ لوں
ہر آغاز کا انجام لکھ لوں
ہرآنسوکاجوازہردردکی صدالکھ لوں
ہردکھ کی داستاں لکھ لوں
ہرآنکھ کےخواب کی تعبیرلکھ لوں
غم اورخوشی ملنےکی حقیقت لکھ لوں
جوہردل میں پوشیدہ ہیں
وہ راز نہاں کھول کر لکھ لوں
وہ سچ زمانہ جسکوچھپائے
چھپ کےپردوں میں بھی وہ بیان مکمل لکھ لوں
جوکوئی محسوس نہ کرپائے
ان لوگوں کےاحساسات وجذبات لکھ لوں
جوظاہرہونےنہیں دیتے کبھی
میں ان لوگوں کےمجبوریء حالات لکھ لوں
جو کسی کےیادوں میں ہی رہ جائے
ان لمحات کےاندازو واقعات لکھ لوں
جس سےذندگی کسی کی سنورجائے
ایسی لبوں پہ مچلتی دعاؤں کےسوغات لکھ لوں
ہر دل کی خواہش مٹتی امیدوں سلگتی آرزوں کو
اور ہر وعدہ ٹھوٹنےکےوجوہات لکھ لوں
وہ محشرجواس دنیامیں برپاھے
اسکےتباہ کاریوں کامنظرلکھ لوں
جب نفرتوں کےبھیڑمیں آرام وسکون کھوجائےعائش
پھرمیں کیسے یہ تیرا نام لکھ لوں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







