چاہتاھے دل ایسی کوئی غزل لکھ لوں

Poet: ayesh By: ayesh, Peshawar

چاہتاھے دل ایسی کوئی غزل لکھ لوں
جسکے ہر لفظ میں اک آگ چھپالرلکھ لوں
ہرعروج کازوال ہرابتدا کی انتہالکھ لوں
ہر آغاز کا انجام لکھ لوں
ہرآنسوکاجوازہردردکی صدالکھ لوں
ہردکھ کی داستاں لکھ لوں
ہرآنکھ کےخواب کی تعبیرلکھ لوں
غم اورخوشی ملنےکی حقیقت لکھ لوں
جوہردل میں پوشیدہ ہیں
وہ راز نہاں کھول کر لکھ لوں
وہ سچ زمانہ جسکوچھپائے
چھپ کےپردوں میں بھی وہ بیان مکمل لکھ لوں
جوکوئی محسوس نہ کرپائے
ان لوگوں کےاحساسات وجذبات لکھ لوں
جوظاہرہونےنہیں دیتے کبھی
میں ان لوگوں کےمجبوریء حالات لکھ لوں
جو کسی کےیادوں میں ہی رہ جائے
ان لمحات کےاندازو واقعات لکھ لوں
جس سےذندگی کسی کی سنورجائے
ایسی لبوں پہ مچلتی دعاؤں کےسوغات لکھ لوں
ہر دل کی خواہش مٹتی امیدوں سلگتی آرزوں کو
اور ہر وعدہ ٹھوٹنےکےوجوہات لکھ لوں
وہ محشرجواس دنیامیں برپاھے
اسکےتباہ کاریوں کامنظرلکھ لوں
جب نفرتوں کےبھیڑمیں آرام وسکون کھوجائےعائش
پھرمیں کیسے یہ تیرا نام لکھ لوں

Rate it:
Views: 779
31 Dec, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL