چاہتی ہو کہ دل میرے میں نہ کوئی ایسی ہلچل ہو
Poet: ڈاکٹر عمار یونس By: Ammar Younas, Beijing Chinaچاہتی ہو کہ دل میرے میں نہ کوئی ایسی ہلچل ہو
خود ہی پاگل کرتی ہو پھر کہتی ہو "تم پاگل ہو"
سانسیں رک سی جاتی ہیں جب آنکھ تری میں کاجل ہو
میں ان میں دھنستا جاتا ہوں، گہری جیسے دلدل ہو
دل میرا ہے بچہ سا اور جلدی سے سو جاتا ہے
ترے کنگن کی جب کھن کھن ہو اور زلف کا کالا آنچل ہو
تخیل کی بنجر دھرتی پر شعروں کی کلیاں کھلتی ہیں
غزلوں کی بارش ہوتی ہے جب یاد تری کا بادل ہو
چاند کی چنچل کرنیں جب ترے کومل گالوں پہ پڑتی ہیں
شور سا اک مچ جاتا ہےجیسے رقص میں سارا جنگل ہو
میں اسکی باتیں سنتا رہوں وہ اپنی باتیں کرتی رہے
مری اتنی سی بس خواہش ہے، یہ سلسلہ اب مسلسل ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






