چاہوں تو
Poet: اریبہ خان By: Areeba Khan, Karachiچاہوں تو وہ میرا ہے
کسی اور کو حق پھر کیوں دیا جائے؟
چاہوں تو ہر لمحہ میرا ہے
کسی اور کو گزارنے کا حق پھر کیوں دیا جائے؟
چاہوں تو اُسکا ہر عکس میرا ہے
کسی اور کو آئینہ تھام نے کا حق پھر کیوں دیا جائے؟
چاہوں تو ہر رشتہ اس سے میرا ہے
کسی اور کو اس میں بندھ جانے کا حق پھر کیوں دیا جائے؟
چاہوں تو اُسکی ہر منزل میری ہے
کسی اور کو اُس رستے پر چلنے کا حق پھر کیوں دیا جائے؟
چاہوں تو کرلوں میں اُسکو حاصل
کسی اور کو لطف اُٹھانے کا حق پھر کیوں دیا جائے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






