چاہیے مجھے ساتھ تمھارا
Poet: عدنان چوھدری By: Ch. Adnan, Rahim Yaar Khanصفرِ زندگی میں
درد کی گھری میں
خوشی کی ہنسی میں
چاہیے مجھے ساتھ تمھارا
دل کی بستی میں
چاھتوں کی گھرائی میں
خواب کی تابیر میں
چاہیےمجھے ساتھ تمھارا
انجان راستوں میں
خوشی سے رابتوں میں
جوانی کی شرارتوں میں
چاہیے مجھے ساتھ تمھارا
دنیا کی مشکلوں میں
وقت کی نارازگی میں
حالات کی سختیوں میں
چاہیے مجھے ساتھ تمھارا
دسمبر کی بارش میں
دل کی سفارش میں
چاند کی چاندنی میں
چاہیے مجھے ساتھ تمھارا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






