چراغ بجھایا نہ کرو
Poet: Shahid Mukhtar Ronaq By: Shahid Mukhtar Ronaq, Islamabadجگنوؤں کے جیسی ان آنکھوں کو رلایا نہ کرو
پلکیں جھکا کر جلتے چراغ بجھایا نہ کرو
دیکھو چھپ گیا ہے چاند شرما کر
یوں تم چہرے سے آنچل ہٹایا نہ کرو
الجھ رہے ہیں گیسو ہوا سے تیرے
تھام لو یہ گھٹا سورج کو ستایا نہ کرو
جب لکھ ہی لیتے ہو نام میرا ہتھیلی پہ
چوما کرو اسکو پھر مٹایا نہ کرو
ملنے سے پہلے بچھڑ جاتے ہو تم اکثر
کبھی بہت پچھتاؤ گے یوں ستایا نہ کرو
تاریکیاں مٹانا ہے کام تیرا
سچے عاشقوں کو تم جلایا نہ کرو
ظالم ہے زمانہ تُو بدنام نہ ہو جائے
روز پھول چڑھانے قبر پر میری آیا نہ کرو
کب سیکھو گے اصولِِ الفت تم رونق
ہر کس کو حال دل سنایا نہ کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






