چشمِ بدود ، لا جواب حسن و جمال ترا۔
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaچشمِ بدود ، لا جواب حسن و جمال ترا
قا تلانا ادائیں، دل کش ہے کمال ترا
تری ہر بات فکرِ سخن کو ہار دے
کیا بات ہے تری واہ واہ خیال ترا
سرخ ہونٹوں پے سیاہ تِل ترے
چاند چہرے پے زلفوں کا جال ترا
آنکھیں جھیل سے بھی زیادہ گہری
گال شام کے سورج کے جیسے لال ترا
کوئلیں گاتی ہے گیت خوشی کے
کومل گلاب کرتے ہیں استقبال ترا
تُو ہی بس نہیں مانتی مجھے اپنا
ورنہ جہان سارا کہتا ہے نہال ترا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






