چشمِ تر کوئی
Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ , Quettaعلاجِ شِیشِ دِل کرُوں مِلے جو شِیشہ گر کوئی
کوئی مِلا نہِیں اِدھر، مِلے گا کیا اُدھر کوئی
ڈگر پہ عشقِ نامُراد کی چلا تھا بے خطَر
گھسِیٹ، لَوٹ لے چلا مِلا تھا چشمِ تر کوئی
نوِید ہو کہ ہم تُمہارا شہر چھوڑ جائیں گے
بسے تھے جِس کے حُکم پر چلا ہے رُوٹھ کر کوئی
شِکَستہ دِل کی دھجّیاں سمیٹ لے، گِلہ نہ کر
اجل کو تُجھ پہ ناز ہو سو موت ایسی مر کوئی
بِچھڑ کے مُدّتیں ہُوئیں، مگر لگے ہے آج بھی
کہ اُس گلی میں مُنتظِر ہے اب بھی بام پر کوئی
چلے جو اعتماد سے، رہے جو مُستقِل مِزاج
بنیں گے ہم بھی عِشق میں حوالہ مُعتبر کوئی
سمجھ لے حوصلہ طلب ہے کھیل سارا عِشق کا
بڑا خسارہ کر لیا، کہے گا تُجھ کو ہر کوئی
نِڈھال کر نہ دے کہِیں یہ تیری خامُشی اُسے
خُود اپنے ہاتھ سے تُو اپنے سر پہ دوش دھر کوئی
قیام کیا کریں چمن میں شاخِ گُل رہی نہِیں
رشِیدؔ سلب طاقتیں، رہا نہ بال و پر کوئی
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






