چشمِ تر کوئی
Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ , Quettaعلاجِ شِیشِ دِل کرُوں مِلے جو شِیشہ گر کوئی
کوئی مِلا نہِیں اِدھر، مِلے گا کیا اُدھر کوئی
ڈگر پہ عشقِ نامُراد کی چلا تھا بے خطَر
گھسِیٹ، لَوٹ لے چلا مِلا تھا چشمِ تر کوئی
نوِید ہو کہ ہم تُمہارا شہر چھوڑ جائیں گے
بسے تھے جِس کے حُکم پر چلا ہے رُوٹھ کر کوئی
شِکَستہ دِل کی دھجّیاں سمیٹ لے، گِلہ نہ کر
اجل کو تُجھ پہ ناز ہو سو موت ایسی مر کوئی
بِچھڑ کے مُدّتیں ہُوئیں، مگر لگے ہے آج بھی
کہ اُس گلی میں مُنتظِر ہے اب بھی بام پر کوئی
چلے جو اعتماد سے، رہے جو مُستقِل مِزاج
بنیں گے ہم بھی عِشق میں حوالہ مُعتبر کوئی
سمجھ لے حوصلہ طلب ہے کھیل سارا عِشق کا
بڑا خسارہ کر لیا، کہے گا تُجھ کو ہر کوئی
نِڈھال کر نہ دے کہِیں یہ تیری خامُشی اُسے
خُود اپنے ہاتھ سے تُو اپنے سر پہ دوش دھر کوئی
قیام کیا کریں چمن میں شاخِ گُل رہی نہِیں
رشِیدؔ سلب طاقتیں، رہا نہ بال و پر کوئی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






