چل تھوڑا غم میں گزارا کرتے ہیں

Poet: مبشر جمیل By: مبشر جمیل , Karorpakka

چل تھوڑا غم میں گزارا کرتے ہیں
کچھ پل کے لیے تم کو ہمارا کرتے ہیں

تم تھے تو خوشیوں کا پتا چلتا تھا
چلو مَحَبّت دوباراکرتے ہیں

اک ہمارے بعد کئی مَحَبّتیں دفن ہونگی
مَحَبّت کا سجدے میں کفارہ کرتے ہیں

کہتے ہیں ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
چاہتوں کو دھو کر منہ ستارا کرتے ہیں

سنا ہے دعاؤں سے تقدیر بدل جاتی ہے
آئیے اس بات کا استخارہ کرتے ہیں

ناکام عشق مثل موت ہے جانی
چل پھر قبر سے کنارہ کرتے ہیں

اور اس کادل تیرے بغیر کیا کروں گا شاعر
اس کو توڑ کر کچھ ہمار کچھ تمہارا کرتے ہیں

Rate it:
Views: 123
23 Mar, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL