چلو آئو پیار کی باتیں کریں
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, میر پورخاص چلو آئو پیار کی باتیں کریں
موسم گل بہار کی باتیں کریں
لو وہ آیا کہ آیا ساون۔
میگھ ملہار کی باتیں کریں؟
یاد ھے وہ آنگن کا جھولا۔
جہاں بیٹھ سنسار کی باتیں کریں۔
دل نہیں بھولا وہ پل۔
جب قول و قرار کی باتیں کریں۔
آہ کتنے سہانے تھے وہ پل؟
جب مل بیٹھ پیار کی باتیں کریں
ہاں تمہیں یاد ھے وہ کنگن؟؟؟
جسکے کھن کار کی باتیں کریں
دل نہیں بھولا تیرے رخسار و جبین۔
جسکے چومنے پر تکرار کی باتیں کریں
وہ منع کرنا تیرا بار بار۔
اور اپنے اسرار کی باتیں کریں
یاد ھے وہ بے تکلفی درمیان کی؟
جو بازو مروڑ اقرار کی باتیں کریں
دل نہیں بھولا یار کسی سورت
جب عشق محبت پیار کی باتیں کریں۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






