چلو بات کرتے ہیں بیتے پل کی
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaچلو بات کرتے ہیں بیتے پل کی
پرانی یادوں کی گزرے کل کی
چھوڑ کے فکریں دنیا داری کی
تدبیر کوئی نکالے فراقِ حل کی
ساگر بھرا دیکھ کے مسکراتی ہے
بھیگی ریت بھی سدا ساحل کی
عشق ومحبت آج کا رواج نہیں
تہذیب ہے یہ یومِ اول کی
فون پے چلتی ہے جو عاشقی
توہینِ عشق ہے عاشقی آجکل کی
خاموش ہے سوچ رہا ہے شاید
سکیم نئی کوئی میرے قتل کی
مانا کہ تجھے معلوم ہے فنِ سخن
نہال تشریح کر میری غزل کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






