چلو تم بھی کر لو
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratہر شخص کرتا ہے تماشا جانا چلو تم بھی کر لو
مَرا نہیں ہر شخص کی ہے بدعا چلو تم بھی کر لو
اب ہو گی نَقل مُکانی تو آخری بار ہو گی
ہوتے ہیں مجھ پہ پہلے ہی سِتم چلو تم بھی کر لو
نہ جانے کون مانگتا ہے میں اُس کا نہیں ہو سکا
خود ہی خود سے اُلجھ گیا ہوں دعا چلو تم بھی کر لو
زندگی زندہ نہیں رہنے دیا مَر کے جِیا ہوں ہر بار میں
دغا باز تھے میرے اپنے دغا چلو تم بھی کر لو
جستجو رہی جائیں گے محبت میں بہت دور تک
قافلوں نے راستوں میں دی مات چلو تم بھی کر لو
وقتِ فُرست تمھیں بھی میرے غم جنجوڑتے ہوں گے
میرا عشق اگر تماشا ہے صاحب چلو تم بھی کر لو
میحانے کیوں جاؤں جھوم جاتا ہوں دیکھ کر تصویر ہی
اعتبار نہیں تمھیں مجھ پہ یہ مُجزہ ،چلو تم بھی کر لو
میں ہار گیا ہوں بازی نِسبت تھی تیرے شہر سے اُسکی
ورنہ اک نام ہے اپنا دھنگل ، چلو تم بھی کر لو
شاہد کے مجھ سے بھی ٹوٹا ہے خدا جانے دل کِسی کا
بدعا پہلے بھی ہے کسی غریب کی چلو تم بھی کر لو
موت ویسے ہی مجھ سے کھاتی ہے خوف یہ شخص کیا ہے
پانی کے گھر میں طُوفانو ں کا ظُلم نفیس ، چلو تم بھی کر لو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






