چلو تم بھی کر لو

Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujrat

ہر شخص کرتا ہے تماشا جانا چلو تم بھی کر لو
مَرا نہیں ہر شخص کی ہے بدعا چلو تم بھی کر لو

اب ہو گی نَقل مُکانی تو آخری بار ہو گی
ہوتے ہیں مجھ پہ پہلے ہی سِتم چلو تم بھی کر لو

نہ جانے کون مانگتا ہے میں اُس کا نہیں ہو سکا
خود ہی خود سے اُلجھ گیا ہوں دعا چلو تم بھی کر لو

زندگی زندہ نہیں رہنے دیا مَر کے جِیا ہوں ہر بار میں
دغا باز تھے میرے اپنے دغا چلو تم بھی کر لو

جستجو رہی جائیں گے محبت میں بہت دور تک
قافلوں نے راستوں میں دی مات چلو تم بھی کر لو

وقتِ فُرست تمھیں بھی میرے غم جنجوڑتے ہوں گے
میرا عشق اگر تماشا ہے صاحب چلو تم بھی کر لو

میحانے کیوں جاؤں جھوم جاتا ہوں دیکھ کر تصویر ہی
اعتبار نہیں تمھیں مجھ پہ یہ مُجزہ ،چلو تم بھی کر لو

میں ہار گیا ہوں بازی نِسبت تھی تیرے شہر سے اُسکی
ورنہ اک نام ہے اپنا دھنگل ، چلو تم بھی کر لو

شاہد کے مجھ سے بھی ٹوٹا ہے خدا جانے دل کِسی کا
بدعا پہلے بھی ہے کسی غریب کی چلو تم بھی کر لو

موت ویسے ہی مجھ سے کھاتی ہے خوف یہ شخص کیا ہے
پانی کے گھر میں طُوفانو ں کا ظُلم نفیس ، چلو تم بھی کر لو

Rate it:
Views: 778
18 Feb, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL