چلو جو ہاتھ تھام کر
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaچلو جو ہاتھ تھام کر
کہیں بھی چل پڑوں گی میں
قریب ہو بعید ہو
شمال ہو جنوب ہو
چلو جو ہاتھ تھام کر
کہیں بھی چل پڑوں گی میں
جہاں سے شمس ہو طلوع
جہاں پہ جا غروب ہو
چلو جو ہاتھ تھام کر
کہیں بھی چل پڑوں گی میں
نہیں ہو چاند گر وہاں
تو نا سہی مگر ہو تُم
چلو جو ہاتھ تھام کر
کہیں بھی چل پڑوں گی میں
جہاں نہ کوئی آس ہو
جہاں نہ کوئی پاس ہو
چلو جو ہاتھ تھام کر
کہیں بھی چل پڑوں گی میں
تُمہیں جو خوب تر لگے
وہی مجھے بھی راس ہو
چلو جو ہاتھ تھام کر
کہیں بھی چل پڑوں گی میں
مرا جہان تُم سے ہے
مرا جہان تُم ہی ہو
چلو جو ہاتھ تھام کر
کہیں بھی چل پڑوں گی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






