چلو عشق کے اتحاس کو کھنگالا جائے
Poet: Asad By: Asad, mpkچلو عشق کے اتحاس کو کھنگالا جائے
دل کو پھر سے کسی اچنمبے میں ڈالا جائے
اس سے کہنے کو بہت ہیں دل کی باتیں
پہلے ذرا خود کو حیرت میں سے نکالا جائے
اس سے بچھڑنے کا لگا ھے صدمہ دل کو
دل کی حالت خستہ ھے خود سر سنبھالا جائے
ھم سے اٹھنے کا نہیں یہ بوجھ کسی سورت
چلو یہ بار وفا کسی اور پر چل کے ڈالا جائے
اس کو ملنے سے ھے انکار یار اسد ھم سے
اب حسرت دید کو اپنی کس اوور نکالا جائے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






