چلو وشمہ سبھی دکھ درد اور آلام لکھتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, MOSCOWہواوں پر تمہارا انگلیوں سے نام لکھتے ہیں
کبھی اڑتے ہوئے پتوں پہ کچھ پیغام لکھتے ہیں
تمہاری چاہتوں کے نام سے صبحیں بلاتے ہیں
قصیدے بھی تمہارے حسن کے ہر شام لکھتے ہیں
ادائے بے نیازی سے تمہارا پوچھنا ہم سے
خطوط اتنے جنابِ من یہ کس کے نام لکھتے ہیں
کبھی فرہاد کہتے ہیں تمہاری جراتوں پر ہم
کبھی خط میں تمہیں رانجھا، کبھی گلفام لکھتے ہیں
لکھا ہے اس نے نامے میں اسے احوال لکھ بھیجیں
چلو وشمہ سبھی دکھ درد اور آلام لکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






