چلو ہم دور دنیا سے ستاروں میں چلے جائیں (دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکا
۔۔۔۔۔۔۔
سماں ہو پیار کا ایسے نظاروں میں چلے جائیں
چلو ہم دور دنیا سے ستاروں میں چلے جائیں
حسیں پیروں کی خاطر یہ گلابوں کا ہے نذرانہ
مری تو جان لے لے گا تمھارا ایسے شرمانا
جہاں ہم گیت گائیں ان بہاروں میں چلے جائیں
چلو ہم دور دنیا سے ستاروں میں چلے جائیں
سماں ہو پیار کا ایسے نظاروں میں چلے جائیں
چلو ہم دور دنیا سے ستاروں میں چلے جائیں
لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا آنچل اڑاتی ہے ،حیا پلکیں جھکاتی ہے
تمھاری ریشمی آواز دل کو گدگداتی ہے
رچا ہو نور جن میں ایسے دھاروں میں چلے جائیں
چلو ہم دور دنیا سے ستاروں میں چلے جائیں
سماں ہو پیار کا ایسے نظاروں میں چلے جائیں
چلو ہم دور دنیا سے ستاروں میں چلے جائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






