چلوآج اک اور مجھ پہ یہ احسان کر دو
Poet: Tasleem Ahmed Dani By: Tasleem Ahmed Dani, Islamabadچلوآج اک اور مجھ پہ یہ احسان کر دو
تمھہں مجھ سے نفرت ھے یہ اعلان کر دو
تیری محبت بھری نظروں کی مجھ میں تاب نھیں
ان نظروں میں شامل نفرت بھری مسکان کر دو
خود ہی محبت کا اظہار تم نے کیا تھا یاد کرو
اک بار پھر کر کے میرا کام ہی آسان کر دو
تم ہی پہ اعتبار ہے مجھ کو اس جہاں میں فقط
ایسا کرو تور دو میرا اعتبار غرق میرا مان کر دو
دل میں جو آ بسے ہو تو خیال بھی رکھنا اس کا
حفاظت نہیں ہوتی تو خالی یہ مکان کر دو
اگر خود نہیں آتے تو اپنی یادوں کو بھی نہ آنے دو
کم سے کم میری نجات کا ہی دانی سامان کر دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






