چلی ہے بارات میرے ہرجائی کی

Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Guangxi

 بعد مدت کے کھلے بھاگ آج نہ کوئی سوگند دو
نہ پابند سلا سل کرو شاہ زنداں سے نکل جانے دو

دیوانے کے شہر میں سجی آج انجمن سخنور کی
نہ روکو بھری محفل میں آج داستان غم سنانے دو

آؤ تم بھی گھڑی دوگھڑی دشمن کے سنگ مل بیٹھو
پھر یہ ساعت آۓ نہ آۓ تم بھی بنا لو مجھے باتیں دو

شام غریباں بھی گزر جایئگی تم دوستی کا پیغام توجانےدو
دور ہوگی یوں قدورت بھی گر ہم مل بیٹھیں آج دیوانے دو

میری تاریک رہ میں کھڑے ہیں جل تھل کے سمندر
نہ باندھو اب کوئ بند شاہ راہ پر آج اے شہر والو

چلی ہے بارات ہرجائ کی شہر میں آج ہرطوفاں کو آنےدو
نہ ہو پھر کبھی دکھ کی بارش سو آج اشکوں کو بہ جانے دو
 

Rate it:
Views: 377
08 Nov, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL