چلے جانا تمہاری مرضی تھی
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: مرزا عبدالعلیم بیگ, Pakistanچلے جانا تمہاری مرضی تھی
مگر
کبھی پلٹ کر دیکھنا
کہ میرے خالی کمرے میں
تمہارے قدموں کی چاپ
اب بھی سانس لیتی ہے
مت کہو کہ کچھ نہیں بدلا
کہ زخموں کے رنگ
اب بھی وہی ہیں
جو میرے حرفوں کے سائے میں
ہر رات جاگتے ہیں
کاش، تمہیں اتنا ہی دکھ ہو
جتنا مجھے ہوا
اُس ایک بات پر
جو کہی بھی نہیں گئی
اور سنی بھی نہیں گئی
چلے جانا تمہاری مرضی تھی
سو چلے گئے
مگر ایک بات بتاؤ
کیا سب کچھ ختم ہو گیا؟
یا تم نے بس
آنکھیں بند کیں اور
میرے وجود سے انکار کر دیا؟
یہ در و دیوار،
یہ خاموش راتیں،
یہ سانسیں،
اب بھی تمہارا پتہ پوچھتی ہیں
ہر لمحہ تمہارے نام کی گواہی دیتا ہے
چلے جانا تمہاری مرضی تھی
مگر
تم نے جو چھوڑا تھا
وہ صرف ایک شخص نہیں تھا
وہ تمہارا عکس تھا
تمہاری یاد تھی
تمہاری ہر ادھوری بات کا جواب تھا
چلے جانا تمہاری مرضی تھی
تم گئے
مگر تمہاری یادیں نہیں گئیں
تمہاری خوشبو اب بھی
میرے کمرے میں چھپی بیٹھی ہے
خاموش، مگر زندہ
چلے جانا تمہاری مرضی تھی
مگر
کوئی تعلق
محض رسمِ راہ نہیں ہوتا
کبھی کبھی
خاموشیاں بھی
صداؤں سے بلند ہوتی ہیں
اب بھی
دہلیز پر رکھا ہوا
وہ پرانا لمحہ
تمہاری آہٹ کا منتظر ہے
چلے جانا تمہاری مرضی تھی
مگر
کیا تم واقعی اتنے بے خبر تھے؟
یا بس جان بوجھ کر انجان بنے رہے؟
کبھی لوٹو،
تو جواب نہ دینا
بس میرے آنسوؤں کو غور سے دیکھنا
کہ وہ وہ سب کہہ چکے ہیں
جو تم کبھی سن نہ سکے
چلے جانا تمہاری مرضی تھی
اور اب
اگر کبھی تم میں ہمت ہو
تو لوٹ آنا
مگر یاد رکھنا
میں وہ نہیں ہوں
جو تمہیں منانے کے لیے گِر جائے گا
اب کی بار
دروازہ کھلے گا ضرور
مگر صرف بند ہونے کے لیے!
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






