چمئپی رنگ اور سیاہ آنکھیں
Poet: Mah Rukh Zaidi By: Shazia Hafeez, Attockچمئپی رنگ اور سیاہ آنکھیں
کر نہ ڈالیں ہمیں تباہ آنکھیں
چھوڑ دے کاروبار دنیا پھر
ہم کو دے دیں اگر پناہ آنکھیں
مل گئیں ہم سے ایک بار اگر
جان لیں گی خدا گواہ آنکھیں
اک جھلک دیکھنے پہ دل نے کہا
کیا بنائیں خدا نے واہ آنکھیں
یہ جہاں ہے اندھیر نظروں میں
میرا سورج یہ میرا ماہ آنکھیں
اس طرف سے نگاہ ہٹتی نہیں
ہم سے کرواتی ہے گناہ آنکھیں
ماہ رخ جب نہ تم رہو گی تو پھر
تم کو ڈھونڈیں گی گاہ گاہ آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







